What a huge loss Iran is going to suffer after the Pakistan-Uzbekistan agreement

What a huge loss Iran is going to suffer after the Pakistan-Uzbekistan agreement
What a huge loss Iran is going to suffer after the Pakistan-Uzbekistan agreement
 

پاکستان اور ازبکستان کے معاہدے کے بعد ایران کو پڑا  جھٹکا کیونکہ ایران اور ازبکستان کے اچھے تعلقات کے بعد پاکستان نے ماری انٹری جی ہاں دوستو ایران اس مسئلہ کو لے کر بہت پریشانی کیوں کہ حالی میں عمران خان نے ازبکستان  کا دورہ کیا  بہت سارے ایسے معاہدے کئے جو کہ ایران کے لیے ناکافی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا تو آئی تفصیل سے بات کرتے ہیں ۔


ہوا کچھ یوں کےسارے ایشین کنٹری جن کے پاس اپنا پورٹ نہیں ہے وہ زیادہ تر اپنے سامان ایران کی ذریعے باقی ممالک میں بھیجتے ہیں ۔


لیکن یہاں پر مسئلہ یہ آرہا ہے کہ پاکستان کے معاہدے کے بعد ایران کو کیوں اتنا بڑا جھٹکا پڑھنے جا رہا ہے اس کے وجوہات سامنے آگئی چکی ہے کیونکہ ازبکستان  بھی اپنا  سامان ایران کے پورٹ کے ذریعے بیچتا تھا تو ان کو چارجز ڈبل ہو جاتا تھا ۔


 جس کی  وجہ سے اس ازبکستان کو بہت نقصان ہوتا تھا کیونکہ ان کے پاس اپنا بندرگاہ پورٹ نہیں ہے ایشیا میں بہت کم  ممالک میں اپنا بندرگاہ پورٹ  ہے جس کی وجہ سے لوگ ان کی پورٹ  کو استعمال کرتے ہیں ۔


پاکستان کا یہاں پر ایم کردار یہ رہا کہ پاکستان نے گوادر پورٹ جو ہے وہ ایشیا کا سب سے بڑا بندرگاہ ہے اس کو استعمال کرنے کیلئے اجازت دے دی ہے اس سے  باقی ممالک کو بہت زیادہ فائدہ ہوگا پاکستان کا بھی فائدہ ہوگا کیونکہ اس پاکستان کو جو چیز اپنی بھیجنے کے لیے ڈبل چارجز ادا کرنی پڑتی تھی اس سے کم چارجز پاکستان کے گوادر پورٹ تک لانے کے لئے لگتی ہے ۔


جس کی وجہ سے ازبکستان اور باقی دیگر ممالک  والے جو ہے وہ پاکستان کی بات پر متفق ہو کر معاہدے پر سائین  کردیا ہے کہ ہم پاکستان کے کورٹ کے ذریعے اپنا سامان بھیجیں گے ۔


یہاں پر پاکستان نے بہت اچھی کوشش کی جو کہ اپنی کوششوں میں کامیاب بھی ہوئے مثال یہ ہے کہ جو ممالک کو پندرہ گھنٹے میں اپنے سامان ایران کے بندرگاہ لے جانے کے لیے جو ٹائم لگتا تھا اس کو شوٹ کر کے پاکستان کہ بندرگاہ تک جانے کے لئے بہت کم ٹائم لگتا ہے۔


 جو کہ پاکستان ایک روڈ  تیار کر رہا ہے جو کہ افغانستان اور باقی سینٹرل ایشیا کے کنٹری کو آپس میں جوڑتا ہے تجارت کے لیے اس روڈ کی ذریعے باقی سنٹرل ایشیا کے ممالک آسانی سے اپنا سامان یا کچھ بھی مصنوعات ایس روڈ کو استعمال کرتے ہوئے گوادر پورٹ تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکتا ہے ۔

Comments